وہ بدل گئی ہے۔

in Ecency21 days ago

Spring

وہ بدل گئی ہے۔ ہاں وہ بدل گئی ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بدلنے پر مجبور ہوئی۔ وہ رکی نہیں، اس نے سیکھا۔ اس نے گرنے کے بعد اٹھنا سیکھا۔ اس نے درد کے بعد دلاسہ دینا سیکھا۔ اس نے تکلیف کے بعد راحت پہنچانا سیکھا۔ اس نے پریشانی میں تسلی دینا سیکھا۔ اس نے خود سے محبت کرنا سیکھی۔ اس نے سیکھنے کو اپنا مقصد بنا لیا۔ وہ سیکھتی ہے اور بدلتی ہے۔ اور یوں روز بہتری کا ایک زینہ اوپر کی طرف چڑھتی ہے۔

دل نہ کرے، پاؤں تھک جائیں، ارادے مدهم پڑ جائیں، شوق دھیما ہو جائے وہ پھر بھی تھکے پاؤں کے ساتھ قدم بڑھاتی ہے، ہمت کرتی ہے اور اپنے پہاڑ جیسے ٹھوس یقین کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ ایک روز اپنی منزل پا کر ہی دم لے گی۔🫠❤️‍🩹🎀