اس معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کبھی بھی یکساں نہیں ہو سکتے کیونکہ دولت اور غربت دو الگ چیزیں ہیں جن کو کبھی بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا چاہے وہ تعلیم کا میدان ہو صحت کا میدان ہمارا معاشرہ امیروں کو بہت زیادہ اہمیت اور عزت دیتا ہے لیکن غریبوں کا اس معاشرے میں رہنا مشکل ہو گیا ہے ان کو اپنی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور یہ فرق نہ صرف ایک حد تک محدود ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جہاں اپ نے کنزہ اور رضوان کی بات کی وہیں یاسمین جو کہ ایک غریب لڑکی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ایک ہی اسکول میں نے دونوں دو الگ سیاروں کی مخلوق ہو اپ کی اس انے سے ایک سبق ملتا ہے کہ ہمیں تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ مبدل کروانی چاہیے جہاں امیری اور غریبی کا فرق ختم ہو سکے۔
You are viewing a single comment's thread from:
آپ جو کہتے ہیں، وہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ لیکن اسلام میں دین اور دنیا کو الگ الگ نہیں چلایا جاتا، بلکہ دین ہی دنیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس بات سے بہت سے سکالرز اتفاق نہیں کریں گے، کیونکہ ایسے موضوعات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ دین ہی دنیا ہے، تو مجھے سورۂ ماعون کا واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک غریب آدمی (جسے بعض روایات میں العرشی کہا جاتا ہے) نے ابو جہل کو ایک اونٹ بیچا تھا، مگر ابو جہل نے اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ وہ آدمی مدد طلب کرنے مکہ آیا، تو لوگوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، وہی تمہارا حق دلوا سکتے ہیں۔ وہ شخص حضور نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ فوراً اس کے ساتھ ابو جہل کے پاس گئے اور اس سے قیمت کا مطالبہ کیا۔ ابو جہل خوف زدہ ہو گیا (بعض روایات کے مطابق اسے ایک دھمکی آمیز منظر نظر آیا) اور اس نے فوراً قیمت ادا کر دی۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس زمانے میں امیر اور غریب کی الگ الگ دنیائیں تھیں، جہاں قبائلی سردار کمتر لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے۔ مگر حضور ﷺ نے اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ اسلام میں دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہے، اور جو صاحبِ حیثیت ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزوروں کا خیال رکھے۔ اسی طرح معاشی نظام میں بھی، اگر مالی طور پر برتر لوگ نچلے طبقے کا خیال رکھیں، تو یہ الگ الگ دنیائیں ایک ہو سکتی ہیں۔ نظریاتی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فرق ختم نہیں ہو سکتا، مگر یہ الگ بات ہے۔ ہمارے انفرادی فیصلے اور اقدامات سے ہم اس خلیج کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
جہاں تک آپ نے تعلیمی نظام میں برابری کی بات کی ہے کہ فرق ختم ہو، تو میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس کے لیے، جیسے بعض ممالک میں پرائیویٹ ٹیوشنز پر پابندی لگائی گئی ہے کہ طلبہ صرف سکول ٹیچر سے ہی تعلیم حاصل کریں گے، ہمیں بھی ایسے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کلاس روم میں دی جانے والی تعلیم کو مکمل اور موثر بنانا ہو گا۔ اس کے علاوہ، معاشرے میں اصلاح کے لیے اور بھی بہت سے اقدامات سوچے جا سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دو دنیائیں ایک نہیں ہو سکتیں۔ جی ہاں، فرق تو موجود ہے، مگر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ انفرادی سطح پر ہم اس میں بہتری لا سکتے ہیں۔
cc: @amjadsharif @intishar
اپ کی بات بجا لیکن جو حقائق میرے اور اپ کے سامنے اور ہم ان میں سے گزر بھی رہے ہیں کسی بھی سوشل میڈیا پر ہمارے پاس کوئی ازادی نہیں ہے کہ ہم حق اور سچ کا ساتھ دے سکے میں صرف گراؤنڈ ریلٹی کی بات کر رہا ہوں اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کوئی بھی عام بندہ اپنے حکمران سے اس کی جائیداد کے بارے میں سوال کر سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس چیز کو جرم سمجھا جاتا ہے اور ہم اس پر کھل کر بات نہیں کر سکتے